ریاست مہاراشٹر کے ضلع پریشد / میونسپل کارپوریشن / نجی امداد یافتہ / غیر امداد یافتہ تمام اسکولوں میں سابق طلبہ انجمن (المونائی ایسوسی ایشن) قائم کرنے کے سلسلے میں ڈائریکٹر تعلیم (ثانوی و اعلیٰ ثانوی) نے مورخہ 13 فروری 2026 کو درج ذیل حکم جاری کیا ہے۔
2) ایجوکیشن آفیسر (پرائمری / سیکنڈری)، ضلع پریشد، تمام۔
5) ایجوکیشن انسپکٹر، ممبئی (شمال / جنوب / مغرب)
موضوع: ریاست کے تمام ضلع پریشد / میونسپل کارپوریشن / نجی امداد یافتہ / غیر امداد یافتہ اسکولوں میں سابق طلبہ انجمن قائم کرنے کے بارے میں۔
حوالہ: محکمہ اسکولی تعلیم و کھیل، حکومت مہاراشٹر، منترالیہ ممبئی، سرکلر نمبر: سنکیـرن 2025/پر.کر.305/ایس.ڈی.4 مورخہ 01/10/2025۔
مندرجہ بالا موضوع کے مطابق آگاہ کیا جاتا ہے کہ حکومت نے مذکورہ سرکاری فیصلے کے تحت ریاست کے تمام ضلع پریشد / میونسپل کارپوریشن / نجی امداد یافتہ / غیر امداد یافتہ اسکولوں میں سابق طلبہ انجمن قائم کرنے کے بارے میں ہدایت جاری کی ہے۔
لہٰذا آپ کے ضلع / شعبہ کے تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر / پرنسپل کو حکومتی فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے اور تمام اسکولوں میں سابق طلبہ انجمن قائم کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اس کے علاوہ منعقدہ سابق طلبہ میٹنگ / سنیہ سملن کی مکمل رپورٹ، اسکول کا نام، تعلقہ، ضلع، تصاویر اور ویڈیوز سمیت یہ معلومات کہ سابق طلبہ نے اسکول کی کس طرح مدد کی، درج ذیل گوگل فارم پر جمع کی جائیں:
https://forms.gle/VqM9JvDBziDWDQ8i8
1) معزز کمشنر (تعلیم)، تعلیم کمشنریٹ، مہاراشٹر ریاست، پونے-1۔
2) اے۔ اے۔ کلکرنی، اسسٹنٹ سیکریٹری (ایس۔ڈی۔4)، محکمہ اسکولی تعلیم و کھیل، منترالیہ ممبئی 400032۔
ریاست کے تمام انتظامی و تدریسی ذرائع کے پرائمری، سیکنڈری، ہائر سیکنڈری اور نجی اسکولوں میں سابق طلبہ انجمن قائم کرنے کے بارے میں حکومت مہاراشٹر نے سرکاری فیصلہ جاری کیا ہے۔
اسکول صرف تعلیم کا مرکز نہیں بلکہ طلبہ کی ہمہ جہتی شخصیت سازی کا اہم مقام ہے۔ اسکول سے حاصل شدہ علم، اقدار اور تربیت ہی طلبہ کی آئندہ زندگی کی بنیاد بنتی ہے۔ ضلع پریشد، بلدیہ، میونسپل کارپوریشن اور نجی اسکولوں سے تعلیم حاصل کرنے والے کئی طلبہ انتظامیہ، سماجی خدمت، سیاست، تحقیق، تجارت، زراعت اور صنعت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں اور قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ان سابق طلبہ کے تعاون سے اسکولوں کے معیار میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ احمد نگر، چھترپتی سمبھاجی نگر اور کولہا پور اضلاع میں اس کی نمایاں مثالیں دیکھی گئی ہیں۔
اسی لیے ریاست کے تمام پرائمری تا بارہویں جماعت کے اسکولوں میں "سابق طلبہ انجمن" قائم کرنے اور سالانہ سابق طلبہ اجتماعات منعقد کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔
سابق طلبہ انجمن کی تشکیل کے لیے رہنما اصول
نام: "سابق طلبہ انجمن" (متعلقہ اسکول کے نام کے ساتھ)
صدر: متفقہ طور پر منتخب سابق طالب علم (مرد / خاتون)
نائب صدر: متفقہ طور پر منتخب سابق طالب علم
سیکریٹری: متعلقہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر / پرنسپل
خزانہ دار: متفقہ طور پر منتخب سابق طالب علم
مشاورتی اراکین: ایک فعال استاد، ایک والدین نمائندہ، ایک ریٹائرڈ افسر اور ایک ریٹائرڈ استاد
رکنیت: اسکول کا کوئی بھی سابق طالب علم آن لائن یا آف لائن رجسٹریشن کے ذریعے رکن بن سکتا ہے۔
اجلاس: سال میں کم از کم ایک سابق طلبہ اجتماع اور دو کمیٹی میٹنگز منعقد کی جائیں۔
متوقع سرگرمیاں
1) اسکول میں بنیادی سہولیات جیسے بیت الخلا، پینے کا پانی، لائبریری، لیبارٹری، کمپیوٹر وغیرہ کی فراہمی میں تعاون۔
2) طلبہ کے لیے کیریئر گائیڈنس، مسابقتی امتحانات کی رہنمائی اور تعلیمی مواد فراہم کرنا۔
3) ثقافتی، کھیل، سائنسی اور ڈیجیٹل سرگرمیوں میں تعاون۔
4) مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے اسکالرشپ فنڈ قائم کرنا۔
5) اسکول کی ترقی کے لیے نقد رقم لینے کے بجائے ضروری اشیاء یا سہولیات فراہم کرنا۔
حکومت کا مؤقف
✔ اسکولوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سماجی شرکت میں اضافہ۔
✔ سابق طلبہ کو براہ راست تعلیمی ترقی میں شامل کرنا۔
✔ دیہی و شہری علاقوں میں تعلیم کے معیار کو یکساں بلند کرنا۔
✔ طلبہ کو کامیاب سابق طلبہ سے تحریک دلانا۔
ہر سال تہواروں جیسے گنیش اتسو، دیوالی، نوراتری، دسہرہ، عید، کرسمس وغیرہ کے موقع پر سابق طلبہ اجتماعات منعقد کیے جائیں اور کامیاب سابق طلبہ و اساتذہ کی عزت افزائی کی جائے۔
ہر اسکول فوری طور پر سابق طلبہ انجمن قائم کرے، آن لائن رجسٹریشن مکمل کرے اور منعقدہ پروگراموں کی تصاویر و ویڈیوز سرکاری پورٹل پر اپ لوڈ کرے۔
یہ سرکاری سرکلر حکومت مہاراشٹر کی ویب سائٹ www.maharashtra.gov.in پر دستیاب ہے۔ سرکلر کو ڈیجیٹل دستخط کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔
حکومت مہاراشٹر کے گورنر کے حکم سے اور ان کے نام پر جاری۔
مکمل سرکاری حکم نامہ پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے Download بٹن پر کلک کریں۔

Post a Comment
Post your comments here..